میں اکیلا ہوں، اس لیے نہیں کہ ہارا ہوں، بلکہ اس لیے کہ خود کو جیت چکا ہوں۔
جو تنہائی میں مضبوط بن جائے، اسے کوئی بھی توڑ نہیں سکتا۔
لوگوں نے چھوڑا، رب نے نہیں — بس یہی میری طاقت ہے۔
میں اکیلا ہوں مگر بے بس نہیں، میری ہمت ہی میری پہچان ہے۔
میں خاموش ہوں، کمزور نہیں؛ طوفان ہمیشہ اندر چھپا ہوتا ہے۔
اکیلا چلنا سیکھ لیا ہے، کیونکہ بھیڑ اکثر گمراہ کر دیتی ہے۔
میرے زخم ہی میری پہچان ہیں، انہوں نے مجھے فولاد بنایا ہے۔
میں گرتا ہوں، ٹوٹتا نہیں — یہی میری اصل جیت ہے۔
جو خود پر یقین کر لے، اسے دنیا کی ضرورت نہیں رہتی۔
لوگوں کی کمی نے مجھے خود سے جوڑ دیا ہے۔
تنہائی نے مجھے رُلایا نہیں، مضبوط بنایا ہے۔
میں کسی کے سہارے نہیں، اپنے حوصلے پر کھڑا ہوں۔
جو درد سے نہ ڈرے، وہی اصل طاقتور ہوتا ہے۔
میں خاموش ضرور ہوں، مگر میری سوچ شور مچا دیتی ہے۔
اکیلا ہوں، لیکن کم نہیں — میں خود ایک دنیا ہوں۔
میں نے خود کو ٹوٹتے دیکھا ہے، اس لیے اب کوئی مجھے توڑ نہیں سکتا۔
جو دل سے ہار جائے وہی ہارتا ہے، میں تو ہر حال میں کھڑا ہوں۔
لوگ چھوڑ گئے تو کیا ہوا، میں نے خود کو پا لیا ہے۔
میری خاموشی کمزوری نہیں، یہ میرے صبر کی گواہی ہے۔
اپنے آپ کو ہارنے مت دو۔