ہم نے چھوڑنا سیکھ لیا، کیونکہ رکنے کی ہر کوشش نے توڑا ہی ہے۔
درد تب بڑھ جاتا ہے جب اپنا ہی سمجھے جانے والا بے پروا ہو جائے۔
خاموشی سب کچھ کہہ دیتی ہے، بس سننے والا چاہیے۔
ہم نے کسی سے شکایت نہیں کی، بس خود سے باتیں کر کے رو لیے۔
سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا، جب دل خالی ہو۔
وہ وعدے جو کبھی پورے نہ ہوئے، آج بھی یاد آتے ہیں۔
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے، مگر ہر سانس کے ساتھ تکلیف دیتے ہیں۔
ہم نے خاموش رہنا سیکھ لیا، کیونکہ ہر بار بولنے سے صرف درد ہی ملا۔
جنہیں ہم سب کچھ سمجھتے ہیں، وہی اکثر ہمیں کچھ بھی نہیں سمجھتے۔
مسکرانا اب عادت بن گئی ہے، ورنہ دل تو کب کا ٹوٹ چکا ہے
اکیلے رہنا مشکل نہیں، مشکل یہ ہے کہ کوئی اپنا ہو کر بھی ساتھ نہ دے۔
ہم نے بہت کچھ کھویا، مگر افسوس یہ ہے کہ سب کچھ اپنے ہی ہاتھوں سے۔
کبھی کبھی سب سے زیادہ شور انسان کی خاموشی میں ہوتا ہے۔
جن کے لیے ہم نے خود کو بھلایا، انہوں نے ہمیں ہی بھلا دیا۔
دل کی باتیں دل میں ہی رہ گئیں، کیونکہ سننے والا کوئی نہ تھا۔
ہم تھک گئے ہیں خود کو مضبوط ثابت کرتے کرتے۔
کبھی کبھی سب سے زیادہ شور انسان کی خاموشی میں ہوتا ہے۔
جن کے لیے ہم نے خود کو بھلایا، انہوں نے ہمیں ہی بھلا دیا۔
دل کی باتیں دل میں ہی رہ گئیں، کیونکہ سننے والا کوئی نہ تھا۔